نوٹ: یہ صفحہ خاص طور ان احباب کے لیے بنایا گیا ہے جو اس حدیث کو فور کلر میں ورڈ فائل میں save کرنا چاہتے ہیں۔ ٹیکسٹ کو copy کیجئے اور ورڈ فائل میں pasteکر دیں۔
سلسله احاديث صحيحه
الايمان والتوحيد والدين والقدر
ایمان توحید، دین اور تقدیر کا بیان

141. اچھا شگون لینا

حدیث نمبر: 211
-" الطير تجري بقدر. وكان يعجبه الفأل الحسن".
سیدنا ابوبردہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آیا اور کہا: امی جان! مجھے کوئی حدیث بیان کیجئے، جو آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہو۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پرندہ (کسی کی قسمتوں کے فیصلے نہیں کرتا بلکہ) اپنی تقدیر کے مطابق اڑتا ہے۔ اور آپ کو اچھی فال پسند تھی۔

حدیث نمبر: 212
-" كان لا يتطير من شيء وكان إذا بعث عاملا سأل عن اسمه، فإذا أعجبه اسمه فرح به ورؤي بشر ذلك في وجهه وإن كره اسمه رؤي كراهية ذلك في وجهه، وإذا دخل قرية سأل عن اسمها، فإن أعجبه اسمها، فرح بها ورؤي بشر ذلك في وجهه وإن كره اسمها رؤي كراهية ذلك في وجهه".
عبداللہ بن بریدہ رضی اللہ عنہما اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی چیز سے بدشگونی اور بری فال نہیں لیتے تھے، لیکن جب کسی کو عامل بنا کر کہیں بھیجنے کا ارادہ کرتے تو اس کا نام پوچھتے۔ اگر اس کا نام پسند آ جاتا تو اس کے ساتھ خوش ہو جاتے اور خوشی کے آثار آپ کے چہرے میں نظر آتے اور اگر اس کا نام آپ کو ناپسند ہوتا تو (کراہت کے علامتیں) چہرے میں دکھائی دیتیں۔ اسی طرح جب کسی گاؤں میں داخل ہوتے تو اس کا نام پوچھتے، اگر اس کا پسندیدہ نام ہوتا تو آپ خوش ہو جاتے اور خندہ روئی کے آثار نظر آنے لگتے اور اگر ناپسندیدہ نام ہوتا تو چہرے پر ناپسندیدگی کی نشانیاں دکھائی دیتی تھیں۔
1    2    Next